Thursday, February 05, 2026 | 17, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سی ایم ہمنت بسوا شرما کے خلاف تحریری شکایت درج ،اسد الدین اویسی کا سخت رد عمل

سی ایم ہمنت بسوا شرما کے خلاف تحریری شکایت درج ،اسد الدین اویسی کا سخت رد عمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 05, 2026 IST

سی ایم ہمنت بسوا  شرما  کے خلاف تحریری شکایت درج ،اسد الدین اویسی  کا سخت رد عمل
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما پر مسلم برادری کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے کے الزام میں تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ شکایت 'آسام سول سوسائٹی' کی جانب سے دی گئی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما  مسلسل مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دے رہے ہیں۔
 
پچھلے پیر کو گورہاٹی کے لتامال پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت:
 
بتا دیں کہ پیر کو آسام کے گوہاٹی کے لتاسل پولیس اسٹیشن میں ہمنت بسوا شرما کے خلاف شکایت درج کرائی گئی۔ تھانے کے انچارج نے سی ایم ہمنت کے خلاف 'آسام سول سوسائٹی' کی شکایت قبول کر لی ہے۔ شکایت کے ساتھ 18 صفحات کا حلف نامہ، اخبار کے مضامین اور ویڈیو کلپس والی ایک پین ڈرائیو بھی پیش کی گئی ہے۔
 
شکایت میں کہا گیا ہے کہ 24 سے 29 جنوری کے درمیان وزیر اعلیٰ شرما نے دانستہ طور پر میڈیا کے سامنے بنگالی مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تبصرے کیے۔ انہوں نے ایک مخصوص برادری کے خلاف نفرت اور دشمنی پھیلائی۔
 
شکایت 'آسام سول سوسائٹی' کے عہدیداروں نے درج کرائی
 
واضح رہے کہ ہمنت بسوا شرما کے خلاف 'آسام سول سوسائٹی' کی جانب سے صدر حافظ راشد احمد چوہدری، ایگزیکٹو چیئرمین پروفیسر عبد المنان اور ایگزیکٹو ممبر عبد الرحیم سکدار نے شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیوز رپورٹس کے مطابق، ریاست کے مختلف حصوں میں ایک مخصوص برادری کے خلاف کاروائی اور سزا کی واقعات پہلے ہی ہو چکے ہیں، جو وزیر اعلیٰ کے ہیٹ اسپیچ کی وجہ سے ہوئے۔
 
شکایت گزاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے بیانات سے عوامی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور یہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153A/295A/298/506 اور 353 کے تحت سزا کا باعث بنتے ہیں۔
 
عوامی امن برقرار رکھنے اور ہیٹ اسپیچ کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق، شکایت گزاروں نے لتاسل پولیس اسٹیشن کے آفیسر انچارج سے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما کے خلاف ان دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے اور مناسب کاروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔
 
حالیہ بیان نے کھڑا کیا سیاسی تنازع:
 
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے حال ہی میں ایک بیان میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 'میا ں مسلمانوں' کو تنگ کریں اور اگر کوئی میا ں رکشہ والا 5 روپے کرایہ مانگے تو اسے صرف 4 روپے ہی دیں، تاکہ وہ پریشان ہو کر آسام سے بھاگ جائیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا اور لوگوں نے ہمنت کے بیان کی شدید مذمت کی۔
 
 اسد الدین اویسی  کا سخت رد عمل:
 
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے آسام میں مسلم آٹو ڈرائیوروں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مودی حکومت کی گیارہ سالہ پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے بیک وقت کئی مسائل اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ ملک کو سوپر پاور بنانے کے وعدوں کے باوجود عام شہری، غریب اور اقلیتیں اپنے حقوق سے کیسے محروم ہیں۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ پی ایم مودی کے الفاظ واضح طور پر اعتماد اور مساوات کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
 
اویسی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے بیان کی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے مسلم آٹو ڈرائیوروں کے خلاف امتیازی بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آٹو کا کرایہ پانچ روپے ہے اور ڈرائیور میاں مسلم ہے تو اسے صرف چار روپے ادا کریں۔  اویسی نے سوال کیا کہ یہ لوگ ہندوستانی شہری ہیں اور پھر بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرکز اور بی جے پی سے سوال کیا کہ اگر ملک کو ترقی دینا ہے اور  سوپر پاور بنانا ہے تو کیا آٹو ڈرائیور کیلئے اپنا پورا کرایہ ادا کرنا اتنا مشکل ہے۔