ماسکو نے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے میں روسی تیل کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر دو ٹوک جواب دیا ہے۔ روس کے صدارتی محل کریملن نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی ملک سے خام تیل خریدنے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم اور توانائی کے دیگر بین الاقوامی ماہرین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ روس بھارت کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والا واحد ملک نہیں ہے۔
ہندوستان نے ہمیشہ یہ مصنوعات دوسرے ممالک سے بھی خریدی ہیں اس لیے ہمیں اس میں کوئی نئی چیز نظر نہیں آتی۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہاکہ روس کو ابھی تک روسی تیل کی خریداری روکنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بارے میں کوئی سرکاری بیان یا اطلاع نہیں ملی ہے۔روس کے نیشنل انرجی سیکیورٹی فنڈ کے ایک سرکردہ ماہر ایگور یوشکوف نے کہا کہ ہندوستانی ریفائنریز روسی خام تیل کی درآمد کو مکمل طور پر نہیں روک سکتیں۔
بھارت سے ابھی تک کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی : پیسکوف
پیسکوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:ہم اور دیگر تمام بین الاقوامی توانائی کے ماہرین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ روس بھارت کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا واحد سپلائر نہیں ہے۔ بھارت ہمیشہ سے ان مصنوعات کو دیگر ممالک سے بھی خریدتا رہا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اس میں کوئی نئی بات نظر نہیں آتی۔تاہم، پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے بارے میں ماسکو کو ابھی تک کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
تیل کی تجارت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا غیر عملی : روسی ماہرین
ادھر، روسی توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی ریفائنریوں کے لیے روسی خام تیل کا مکمل متبادل لانا غیر عملی ہے۔ نیشنل انرجی سیکیورٹی فنڈ کے ماہر ایگور یوشکوف نے کہا کہ امریکہ سے برآمد ہونے والا شیل تیل زیادہ تر ہلکا گریڈ کا ہوتا ہے، جبکہ روسیہ بھاری اور سلفر والا یورال کروڈ فراہم کرتا ہے جسے بھارتی ریفائنریاں استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی براہ راست جگہ لینا ممکن نہیں ہے اور اس سے بھارت کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔