بامبے ہائی کورٹ نے تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال کو 2013 کے جنسی زیادتی کیس میں ان کی 2021 کی بریت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے تیج پال کو10سال قید کی سزا سنائی اور انہیں دو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مقدمہ 2013 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب تہلکہ میگزین کی ایک خاتون صحافی نے ترون تیج پال پر گوا میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران لفٹ کے اندر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس الزام کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور معاملہ عدالتی کارروائی تک پہنچ گیا۔
سنہ 2021 میں گوا کی ٹرائل کورٹ نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ترون تیج پال کو بری کر دیا تھا۔ تاہم گوا حکومت نے اس فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے تفصیلی سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ شواہد اور قانونی نکات کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ خاتون کے بیان کو محض معمولی تضادات کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ پورے معاملے کو مجموعی شواہد اور حالات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد ترون تیج پال کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں، اسی بنیاد پر انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بامبے ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ترون تیج پال کو دو ہفتوں کے اندر متعلقہ عدالت یا حکام کے سامنے خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ سزا پر عمل درآمد شروع کیا جا سکے۔
اس فیصلے کو ملک کے اہم عدالتی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے مقدمے سے متعلق ہے جس نے #MeToo تحریک سے پہلے ہی کام کی جگہ پر خواتین کے تحفظ، جنسی ہراسانی کے معاملات اور طاقتور شخصیات کے احتساب پر قومی سطح پر وسیع بحث چھیڑ دی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کی سماعت اور شواہد کے جائزے کے حوالے سے بھی اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔