• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • حیدرآباد:سعیدآباد میں سر عام ایک شخص کا بےدردی سےقتل

حیدرآباد:سعیدآباد میں سر عام ایک شخص کا بےدردی سےقتل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 04, 2026 IST

حیدرآباد:سعیدآباد میں سر عام ایک شخص کا بےدردی سےقتل
 حیدرآباد کے سعید آباد پولیس اسٹیشن حدود میں واقع سنگارینی کالونی میں منگل کے روز ایک شخص کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ایک 37 سالہ  تاجر فصیح الدین عرف عامرکو پڑوسی نے ذاتی رنجش کی بناء پر سعیدآباد کی سنگارینی کالونی میں منگل کی صبح پورے محلے میں عوامی کے سامنے ناریل کاٹنے والی درانتی سے کئی وار کرکے قتل کردیا۔ خون میں لت پت زخمی کو عثمانیہ جنرل اسپتال (او جی ایچ) منتقل کرنے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ملزم فرار ہے جس کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔ مقتول کےاہل خانہ نے قاتل کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی ہے۔

دن دہاڑے سرعام قتل 

سعیدآباد پولیس کے مطابق مقتول عامر سنگارینی کالونی کا رہائشی تھا۔ منگل کی صبح تقریباً 10.30 بجے، عامر کا سمن کے ساتھ جھگڑا ہوا ۔ جو کہ اسی محلے کا ایک آٹو ڈرائیور ہے۔ جھگڑے کے دوران سمن نے سنگارینی کالونی میں گھر کے قریب گلی میں عامر پر درانتی سے حملہ کردیا۔ عامر کو کئی چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی گر گئے۔ حملہ کے بعد سمن علاقہ سے فرار ہوگیا  اور مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دینے کے بعد عامر کو عثمانیہ جنرل اسپتال (او جی ایچ) پہنچایا۔ اس واردات کے بعد سنگارینی کالونی کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ 

پولیس موقع پر پہنچی 

مقامی لوگوں کی اطلاع پر سعیدآباد پولیس موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ کو محفوظ کرلیا۔ سعیدآباد کے انسپکٹر بی چندر موہن نے کہا کہ عامر کو او جی ایچ میں مردہ قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلا کہ ملزم اور مقتول کے درمیان شراب نوشی کے دوران معمولی باتوں پر جھگڑے کی وجہ سے ذاتی رنجش تھی۔
سعیدآباد کے اے سی پی ایس وینکٹ ریڈی نے کہا، "عامر نے سمن کو قابل اعتراض زبان استعمال کرتے ہوئے گالی دی تھی۔ منگل کی صبح عامر نے ذاتی رنجش کی وجہ سے سمن کے ساتھ جھگڑا کیا اور اس کے خاندان کے خلاف بد زبانی کی ۔

 انصاف کی مانگ 

 عامرکےاہل خانہ بتایاکہ عامر شہرسے باہر  گئے تھے۔ انھیں فون کرکےبلایا گیا۔ وہ آج  صبح  بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس  ہو رہے تھے۔ حملہ آوار کے گھر کےسامنےعامر پر قاتلانہ حملہ کیا۔ انھوں نے بتایاکہ  حملہ آوار نشہ میں تھا۔ عامر کےاہل خانہ نے  سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ سمن شراب، اور گانجہ فروخت کرتی ہے۔

معاملہ درج، ملزم کی تلاش جاری 

سراغ لگانے والی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے۔ سعیدآباد پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا ملزم یا مقتول کا کوئی مجرمانہ سابقہ ​​ ریکارڈ تھا۔عامر کے اہل خانہ کی شکایت پر سمن کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103 (1) (قتل) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔تحقیقاتی ٹیم نے جائے واردات کا معائنہ کر کے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔عامر کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے  عثمانیہ جنرل  ہاسپٹل (او جی ایچ )کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی۔

مجلس نے کی حملےکی مذمت

 یاقوت پورہ  ایم ایل اے، اور مجلس  لیڈر جعفر حسین معراج  نے سنگارینی کالونی سے تعلق رکھنے والے کپڑے کے تاجر 35 سالہ مرہوم فصیح احمد (عامر) کے بہیمانہ قتل سے گہرا دکھ ہوا، جس پر ممبئی سے واپسی کے فوراً بعد نامعلوم حملہ آوروں نے مہلک ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

 غمزدہ خاندان سے ایم ایل اے کی ملاقات 

 انھوں نے کہاکہ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی اور فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کی ہدایت پر اے آئی ایم آئی ایم یاقوت پورہ کے ایم ایل اے جعفر حسین معراج  فوری طور پر عثمانیہ جنرل اسپتال پہنچے، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے اور تمام ضروری کاروائیوں کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اسے غمزدہ خاندان کے حوالے کیا جا سکے۔ مرہوم فصیح  احمد (عامر) نے پسماندگان میں 7افراد ہیں۔ ہم اس دکھ کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

سماج دشمن عناصر پرسخت کاروائی کی مانگ 

ہم حکومت تلنگانہ اورحیدرآباد پولیس سے گشت کو مضبوط بنانے، سماج دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت اور پرتشدد جرائم کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ہر شہری کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔اللہ تعالیٰ مرہوم فصیح احمد (عامر) کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 

حیدرآباد امن کا گہوارہ یا جرائم کا مرکز 

شہر حیدرآباد جو کبھی امن  کا گہوارہ تھا آج،قتل، لوٹ مار، اور دیگر جرائم کا مرکز بن چکا ہے۔ لا اینڈ آڈر کی بگڑتی صورتحال   پر عوامی میں تشویش  کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ  شہر میں بڑھتے قتل، اوربے خوف مجرموں نے کئی سوال کھڑا کئےہیں۔ کیا جرم کرنےوالوں میں سزا کا خوف نہیں رہا؟۔ کیا پولیس جرائم  کو قابو پانے میں  ناکام ہوچکی ہے۔ آئے دن شہر میں قتل کےواقعات نے  مقامی لوگوں کےعلاوہ ملک بھر کےلوگوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کیا جرم کرنے والوں کو قانون نا فذ کرنے والے افراد یا پھر سیاسی سر پرستی حاصل ہے۔ اس کا جواب حکومت کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔