• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • سرکاری زمین بچانے کا مطالبہ، ٹی ڈی پی ایم پی پر سنگین الزامات

سرکاری زمین بچانے کا مطالبہ، ٹی ڈی پی ایم پی پر سنگین الزامات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 28, 2026 IST

سرکاری زمین بچانے کا مطالبہ، ٹی ڈی پی ایم پی پر سنگین الزامات
وجئے واڑہ کے سابق رکن پارلیمنٹ کیسینی نانی نے تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹی ڈی پی کے رکن پارلیمنٹ کیسینی شیوناتھ کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ نانی نے الزام عائد کیا ہے کہ شمشی گوڈا میں واقع 112.72 ایکڑ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں قانونی و انتظامی مداخلت ناگزیر ہے۔
 
چیف منسٹر کو ارسال کردہ ایک تفصیلی شکایت میں نانی نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد کے مضافاتی علاقے شمشی گوڈا، پرگتی نگر کے قریب سروے نمبر 57 میں واقع 112.72 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ اور آئینی عہدے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ سرکاری زمین کو محفوظ رکھا جا سکے۔
 
نانی نے سپریم کورٹ میں میدچل-ملکاجگری ضلع کلکٹر کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروے نمبر 57 کی مجموعی 274 ایکڑ زمین سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکومتی ملکیت ہے۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود کیسینی شیوناتھ اور ان کے بیٹے کیسینی وینکٹ چودھری، جو ایکسیلا پراپرٹیز کے منیجنگ پارٹنر ہیں، مبینہ طور پر اس زمین کے ایک حصے پر غیر قانونی حقوق حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
شکایت میں مزید الزام لگایا گیا کہ سپریم کورٹ سے بعض اہم حقائق پوشیدہ رکھے گئے اور پی ایم سی بینک گھوٹالے سے منسلک فنڈز کے استعمال کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ نانی نے 4 اکتوبر 2023 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری احتیاطی نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔
 
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیشنل کمپنی لا ٹربیونل (NCLT) کی جانب سے HDIL کے 55 فیصد ترقیاتی حقوق سے متعلق عائد پابندی کو نجی تصفیے کے ذریعے نظرانداز کیا گیا۔ ان کے مطابق، کیسینی ڈیولپرز اور ایکسیلا پراپرٹیز مبینہ طور پر TS-RERA رجسٹریشن کے بغیر سرگرم ہیں اور متنازعہ زمین پر متوسط طبقے کے متعدد خاندانوں کو پلاٹ فروخت کیے جا چکے ہیں۔
 
نانی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی جائے کہ وہ ضلع کلکٹر کا حلف نامہ اور TGIIC کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق تمام ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کریں۔ انہوں نے نجی درخواستوں کو مسترد کرنے اور سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
 
انہوں نے HYDRAA سے بھی اپیل کی کہ وہ فوری طور پر 112.72 ایکڑ متنازعہ زمین کو اپنے قبضے میں لے، مبینہ تجاوزات ہٹائے، غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کرے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔
 
اس معاملے نے HYDRAA کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری زمین پر مبینہ قبضے کی کوشش ہوئی ہے تو متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی کیوں سامنے نہیں آئی۔
 
یہ تنازع ریاستی سیاست میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ماضی میں تلگو دیشم پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ایسے میں موجودہ ٹی ڈی پی رکن پارلیمنٹ کے خلاف لگنے والے ان الزامات پر ریاستی حکومت کا آئندہ ردعمل سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔