پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تعطل اپنے عروج پر ہے۔ جہاں راہل گاندھی نے چین سرحدی تنازعہ اور جنرل نروانے کی کتاب پر وزیر اعظم کو گھیرے میں لیا وہیں خواتین ممبران پارلیمنٹ نے ایوان میں وزیر اعظم کی کرسی کو بینروں سے ڈھانپ دیا ہے۔ توقع ہے کہ آج وزیراعظم ان تمام الزامات پر اپنا رخ پیش کریں گے۔پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران جب گذشتہ روز شام پانچ بجے ایوان دوبارہ شروع ہوا تو ڈرامائی اور بے مثال مناظر سامنے آئے۔
اپوزیشن جماعتوں کی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے حکمراں پارٹی کے لیڈروں کی کرسیوں کا گھیراؤ کیا جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کرسی بھی شامل تھی۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے بڑے بینرس اٹھائے رکھے تھے جن پر جو صحیح ہے کرو لکھاتھا۔ یہ نعرہ جنرل نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی کے الزامات پر براہ راست جھٹکا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی دراندازی کے دوران وزیر اعظم نے فوج سے کہا تھا کہ وہ کرو جو صحیح ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم آج راجیہ سبھا میں تقریر کر سکتے ہیں جبکہ لوک سبھا میں ان کے جواب کے بغیر قرارداد پاس ہونے کا امکان ہے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدے کے حوالے سے اپوزیشن کی الجھن کو دور کر سکتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس معاہدے کو کسانوں کے ساتھ دھوکہ اور بی جے پی کو غیر ملکیوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔