• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • فرید آباد اسکول قتل کیس، ٹیچر کے قتل کا ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار

فرید آباد اسکول قتل کیس، ٹیچر کے قتل کا ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 04, 2026 IST

فرید آباد اسکول قتل کیس، ٹیچر کے قتل کا ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار
ہریانہ کے ضلع فرید آباد میں ایک نجی اسکول میں پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعے میں 29 سالہ ٹیچر سندھیا کو مبینہ طور پر ایک نوجوان نے چاقو کے متعدد وار کر کے قتل کر دیا۔ پولیس نے واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ سندھیا سکرونا گاؤں کے ایک نجی اسکول میں پڑھاتی تھی، جو ایک پولیس چوکی کے قریب واقع ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق بدھ کی صبح ایک نوجوان اسکول پہنچا اور ٹیچر سے ملنے کی درخواست کی۔ اطلاع ملنے پر سندھیا اس سے ملنے کے لیے باہر آئیں۔
 
الزام ہے کہ جیسے ہی وہ باہر پہنچیں، نوجوان نے ان پر اچانک چاقو سے حملہ کر دیا۔ ان کے چہرے، گردن اور سینے پر کئی وار کیے گئے۔ یہ پورا واقعہ اسکول میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہو گیا۔ فوٹیج کے مطابق ملزم نے اپنا سر، چہرہ اور کندھے سفید کپڑے سے ڈھانپ رکھے تھے۔ وہ پہلے اسکول کی لابی میں انتظار کرتا رہا، پھر سندھیا کے باہر آتے ہی انہیں اشارہ کیا۔ بعد میں اس نے مبینہ طور پر انہیں گردن سے پکڑا، باہر کھینچا اور مسلسل چاقو سے حملہ کرتا رہا۔ زمین پر گرنے کے بعد بھی وہ حملہ کرتا رہا۔ چیخ و پکار سن کر اسکول کا عملہ موقع پر پہنچا۔ اسکول کے ایڈمنسٹریٹر نے حملہ روکنے کی کوشش کی، لیکن ملزم نے انہیں بھی چاقو دکھا کر دھمکایا۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ ٹیچر پر حملہ کیا اور بغیر رجسٹریشن نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔
 
ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ وہ صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے اپنے دفتر میں تھے، جب انہوں نے مدد کے لیے چیخیں سنیں۔ موقع پر پہنچنے پر انہوں نے دیکھا کہ ٹیچر زخمی حالت میں زمین پر پڑی ہیں اور حملہ آور ان پر حملہ کر رہا ہے۔ واقعے کے بعد سندھیا کو فوری طور پر الفلاح اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے واقعے کے تقریباً دو گھنٹے کے اندر 21 سالہ ملزم امیت کو گرفتار کر لیا، جو کوٹ گاؤں کا رہنے والا ہے۔ پولیس کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امیت گزشتہ تقریباً دو سال سے سندھیا کو جانتا تھا اور کئی بار ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر چکا تھا، لیکن سندھیا اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کے باوجود وہ ان کا مسلسل پیچھا کرتا رہا۔
 
تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سندھیا نے حال ہی میں امیت کے خلاف چھیڑ چھاڑ کی شکایت درج کرائی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس شکایت کے بعد امیت نے عوامی طور پر معافی بھی مانگی تھی، پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل اسی واقعے کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے سے متعلق دیگر شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔