آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے اسمبلی میں تیروملا لڈو اور ٹی ٹی ڈی گھی سپلائی تنازعہ پر اظہارِ خیال کیا۔ اور کہا کہ اس معاملے میں ایک طویل سازش ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندو اداروں اور ٹی ٹی ڈی کے تقدس کو نقصان پہنچانے کی کوششیں سال 2005 میں سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور سے شروع ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق اُس وقت کی بعض انتظامی فیصلوں نے عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، ۔۔چندرابابو نائیڈو نے دعویٰ کیا کہ سابق وائی سی پی حکومت کے دور میں تقریباً 60 لاکھ کلو گرام ملاوٹی گھی استعمال کر کے 20 کروڑ سے زائد مقدس لڈو تیار کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منظم سنڈیکیٹس اس عمل میں ملوث تھے، جس سے پرسادَ کے تقدس سے سمجھوتہ ہوا ،۔۔اور عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے۔۔
وہیں دوسری طرف نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے اسمبلی میں تیروملا لڈو تنازعہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پرسادَ کے معیار پر ماضی میں بھی کئی بار سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے توبہ اور ندامت کے جذبے کے تحت کفارہ کیا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ تیروملا لڈو میں ملاوٹ پائی گئی۔
ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ سابق وائی ایس آر حکومت کے قائدین براہِ راست ملوث تھے، تاہم یہ سب ان کے مقرر کردہ ٹی ٹی ڈی بورڈ کے دور میں ہوا۔ اسمبلی میں ملاوٹی گھی کے معاملے پر بحث کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ گھی کے بجابجائے گھی جیسی شے لڈو پرسادَ میں استعمال ہوئی، اور این ڈی ڈی بی کی رپورٹ میں جانوروں کی چربی ملانے کا ذکر ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ہندو دھرم کے احترام سے جڑا ہے۔