حیدرآباد: موجودہ دور کی دوڑ دھوپ، کیریئر کی فکر، مستقبل کی پریشانی اور کامیابی کی ہڑبڑاہٹ میں لوگ اکثر بغیر کسی واضح سبب کے شدید گھبراہٹ، بے سکونی اور تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، ہاتھوں میں پسینہ آنا، دماغ میں بے شمار خیالات کا طوفان اور دل کی بے قراری یہ محض "زیادہ سوچ لینا" نہیں بلکہ اضطراب (انزائٹی) کی عام نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ اضطراب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جو دماغ اور جسم دونوں پر گہرا اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ کوئی کمزوری یا شخصیت کی خامی نہیں بلکہ کسی بھی عمر، جنس یا سماجی پس منظر کے شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، تناؤ (اسٹریس) اور اضطراب میں بنیادی فرق ہے: تناؤ عموماً کسی مخصوص واقعے یا وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور وہ ختم ہونے پر کم ہو جاتا ہے، جبکہ اضطراب بغیر کسی مخصوص وجہ کے طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے جڑا ہوتا ہے۔
اضطراب کی اہم علامات
جسمانی: دل کی تیز دھڑکن، ضرورت سے زیادہ پسینہ، سانس کی کمی، جسم کا کانپنا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنا، منہ کا خشک ہونا، سر درد، پیٹ کی خرابی یا چکر آنا۔ ذہنی: مسلسل فکر و پریشانی، بے چینی، توجہ کا فقدان، منفی سوچیں، نیند میں خلل، خوف یا آنے والی آفت کا احساس۔
یہ اضطراب روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ رشتوں میں کشیدگی، کام کی کارکردگی میں کمی، سماجی میل جول سے گریز اور مجموعی پیداواریت میں کمی اس کے نتیجے میں ہو سکتی ہے۔ اگر یہ حالت طویل عرصے تک جاری رہے تو ڈپریشن، پینک اٹیک، فوبیاز یا دیگر ذہنی امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر یہ بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے، نیند کی کمی کا باعث بن سکتا ہے اور دل کے مسائل کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔
اضطراب سے نجات کے موثر طریقے
جب گھبراہٹ بڑھنے لگے تو فوری سکون کے لیے: گہری اور آہستہ سانس لینا (ڈیپ بریتھنگ)، 4-7-8 تکنیک (4 سیکنڈ سانس اندر، 7 سیکنڈ روک کر، 8 سیکنڈ آہستہ باہر نکالیں)، مسلز کو آرام دینے کی مشقیں یا گراؤنڈنگ تکنیک (5-4-3-2-1: پانچ چیزیں دیکھیں، چار چیزیں چھوئیں، تین آوازیں سنیں، دو چیزیں سونگھیں، ایک چیز کا ذائقہ لیں) آزمائیں۔ روزانہ ورزش، یوگا، مراقبہ، متوازن غذا (کیفین، چائے، کافی اور شوگر کم کریں)، اچھی نیند اور مثبت سوچ کو فروغ دینا اضطراب کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔
اگر علامات مسلسل رہیں، روزمرہ کام متاثر ہو رہے ہوں یا پینک اٹیک آ رہے ہوں تو پیشہ ورانہ مدد لینا ناگزیر ہے۔ کاؤنسلنگ، کوگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) اور ضرورت کے مطابق ادویات بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ کے آئی ایم ایس سن شائن ہسپتالز، بیگم پیٹ، حیدرآباد کی کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر شیوانی کوہلی (ایم فل، پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، ماسٹرز ان کلینیکل سائیکالوجی) فرماتی ہیں کہ اضطراب پر بروقت توجہ اور آگاہی بہت ضروری ہے۔ یہ کوئی ناقابل علاج بیماری نہیں بلکہ مکمل طور پر قابل علاج حالت ہے۔ مناسب مدد اور علاج سے زندگی میں سکون، توازن اور خوشحالی واپس آ سکتی ہے۔ ذہنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر آپ یا آپ کے قریبی کوئی اضطراب سے دوچار ہے تو جلد از جلد ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ صحت مند ذہن ہی ایک متوازن اور خوشحال زندگی کی بنیاد ہے۔
مکمل جانکاری کے لیے یہاں کلک کریں👇