Tuesday, February 24, 2026 | 06 رمضان 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • رمضان المبارک میں روزوں کے اہم مسائل اور احکام

رمضان المبارک میں روزوں کے اہم مسائل اور احکام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 24, 2026 IST

رمضان المبارک میں روزوں کے اہم مسائل اور احکام
رمضان المبارک کی برکتوں اور فضیلتوں سے فیض یاب ہونے والے مسلمان بھائیو اور بہنو! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ مقدس مہینہ عطا فرمایا ہے تاکہ ہم روزے رکھ کر تقویٰ حاصل کریں۔ اگر کوئی شخص روزے کے دوران غلطی سے یا بھول کر کچھ کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسے کھلایا پلایا ہے، لہٰذا روزہ جاری رکھیں اور جیسے ہی یاد آئے فوراً روک دیں۔ قرآن مجید میں بھی ہے کہ بھول چوک سے کوئی عمل ہو تو کوئی مواخذہ نہیں، لیکن جان بوجھ کر کیا جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
 
کھانے کا ذائقہ چکھنے کا مسئلہ خاص طور پر گھریلو خواتین کے لیے اہم ہے۔ اگر پکانے کے دوران نمک یا مرچی کی کمی محسوس ہو اور گھر میں جھگڑا نہ ہو تو زبان پر تھوڑا سا رکھ کر ذائقہ معلوم کریں اور فوراً تھوک دیں، نگلنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ قدرتی طور پر منہ میں آئے اور نگل لیں۔ اگر جان بوجھ کر جمع کرکے نگلیں تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ قے کے بارے میں: اگر خود بخود (قدرتی طور پر) قے آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن جان بوجھ کر انگلی ڈال کر یا کوشش سے قے کریں تو روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
 
مسواک کا استعمال روزے میں جائز اور افضل ہے۔ نبی کریم ﷺ کو مسواک بہت پسند تھی اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر امت پر مشقت نہ ہوتی تو ہر نماز کے بعد مسواک کا حکم دیتے۔ مسواک سے منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ طبی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ ٹوٹھ پیسٹ استعمال کر سکتے ہیں لیکن احتیاط کریں کہ کچھ حلق میں نہ جائے۔ مسواک افضل ہے۔ مسواک کے افضل اوقات: وضو، نماز، قرآن کی تلاوت، نیند سے بیدار ہونے اور منہ کے ذائقہ بدلنے پر۔ رمضان میں یہ اوقات زیادہ ملتے ہیں، لہٰذا زیادہ اجر حاصل کریں۔ نہانا روزے میں جائز ہے۔ اگر گرمی یا گندگی سے تکلیف ہو تو نہا لیں، کوئی حرج نہیں۔ تیل لگانا اور سرمہ ڈالنا جائز ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ روزہ دار صبح تیل لگائے اور کنگھی کرے۔ آنکھ اور کان میں ڈراپس ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ حلق تک نہیں پہنچتے۔ ناک میں ڈراپس بہتر ہے نہ ڈالیں کیونکہ ناک حلق کا راستہ ہے، بعض اوقات ذائقہ حلق تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر شدید ضرورت ہو تو افطار کے بعد استعمال کریں۔ سانس کی تکلیف (جیسے دمہ) میں انہیلر یا پف کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ پیٹ تک نہیں پہنچتا۔
 
 
انجیکشن کے مسائل: انٹرا مسکلر (رگوں میں) انجیکشن جائز ہے۔ لیکن ملٹی وٹامن یا طاقت والے انجیکشن روزے میں نہ لگوائیں، افطار کے بعد بہتر۔افطار میں جلدی کرنا سنت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ افطار میں جلدی کرو۔ جیسے ہی اذان سنائی دے افطار کر لیں۔ خون دینا (عطیہ خون یا حجامہ) سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ نبی ﷺ نے حجامہ کی اجازت دی۔ لیکن اگر کمزوری ہو کہ روزہ توڑنا پڑے تو افطار کے بعد بہتر۔ وضو میں ناک میں پانی چڑھانے میں احتیاط کریں، روزے میں جھٹکے سے نہ چڑھائیں تاکہ حلق میں نہ جائے۔ اگر غلطی سے چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر کوئی رات بھر جاگ کر دن بھر سوئے تو اگر فرض نمازیں ادا کر لے تو روزہ درست ہے، لیکن رمضان کی برکتوں اور نیکیوں سے محروم رہتا ہے۔ رمضان سنہری موقع ہے، نیند پر سمجھوتہ کرکے عبادت میں گزاریں۔
 
ناخن کاٹنا، بال کاٹنا، شیو یا ویکسنگ سے روزہ نہیں ٹوٹتا، یہ فطری امور ہیں۔اگر سحری نہ ہو سکے (نیند غالب آ جائے) تو روزہ درست ہے۔ سحری سنت ہے، فرض نہیں۔ رات کو نیت کر لی تو کافی ہے۔ رمضان میں قرآن مکمل کرنا سنت ہے۔ نبی ﷺ ہر رمضان جبریل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھے۔ کم از کم ایک مرتبہ مکمل کرنے کی کوشش کریں، اور سمجھ کر پڑھنے کی اہمیت زیادہ ہے۔عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) پر روزہ رکھنا حرام ہے۔
 
مکمل ویڈیو کے لیے یہاں کلک کریں👇