کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کیلئے آج بھوپال میں منعقد پارٹی کے کسان مہا چوپال میں ان سے خطاب کریں گے۔ پارٹی لیڈروں نے کہا کہ بھوپال کے جواہر چوک میں منعقد ہونے والے اس پروگرام کیلئے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کارکنان گاؤں کا دورہ کر کے یہ بتانے کیلئے کہ یہ معاہدہ کس طرح کاشتکاروں اور ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔ کانگریس کے اراکین اسمبلی نے اس معاملے پر اسمبلی میں احتجاج کیا اور اسے کسانوں کیلئے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ زرعی منڈیوں اور دیہی معیشت کو شدید متاثر کرے گا۔
دوپہر 2 بجے ہونے والے اس پروگرام سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی خطاب کریں گے۔ اس کے لیے 50 ہزار افراد کی گنجائش والا ڈوم تیار کیا گیا ہے۔ پی سی سی چیف جیتو پٹواری نے اس ڈیل کو ’ٹرمپ کی تلوار‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے الزام لگایا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے کپاس، سویابین اور سرسوں کی قیمتیں گر رہی ہیں، جس سے کسان خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس کے ان الزامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وزیر ایدل سنگھ کنشانا نے راہل گاندھی کے زرعی علم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنہیں گندم کی بالی اور یوریا کے استعمال تک کا علم نہیں، وہ کسانوں کے بارے میں کیا بات کریں گے۔ اسی طرح، رکنِ اسمبلی گھنشام چندروانشی نے راہل گاندھی پر الزام لگایا ہے کہ وہ تجارتی ڈیل کے بہانے بین الاقوامی سطح پر بھارت کو بدنام کر رہے ہیں۔